ابنا: مصری وزارت خارجہ کے ترجمان منحہ باخوم نے مصری اخبار الیوم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تہران اور قاہرہ کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں مصری ترجمان نے کہا کہ حسنی مبارک ایران کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتا تھا لیکن موجودہ حکومت کا ایسا کوئی نظریہ نہیں ہے اور ہم ایران کو اس وقت ایک دوست اور برادر ملک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے خلیج فارس کے ممالک اور ایرا ن کے باہمی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کی قاہرہ اور تہران کے روابط پر تشویش بے معنی ہے۔
واضح رہے کہ مصری فرعون حسنی مبارک کے زوال کے بعد مصر کی نئی حکومت نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
حسنی مبارک کے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ گہرے روابط تھے جبکہ ایران ، امریکہ اور اسرائیل کو عالم اسلام کا دشمن سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے مبارک کو ایران کے ساتھ دشمنی تھی۔
بشکریہ از مہر خبررساں ایجنسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نکتہ:
اسرائیل اور خلیجی ریاستوں نے ایران کے ساتھ مصر کے تعلقات پر تشویش ظاہر کیا ہے جس سے ایک بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ خلیجی ریاستوں کے حکمران خاندانوں کے صہیونی ریاست کے ساتھ مشترکہ مفادات کا کوئی معاملہ ہے جس کی وجہ سے دونوں یکسان تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور کتنی اچھی بات ہوگی کہ اگر آل سعود کو عالم اسلام کی قیادت کا درجہ دینے والے بھی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ مصر میں عوامی انقلاب اور مصر کے اسرائیل اور امریکہ کے دشمن نمبر ایک کے ساتھ دوستانہ تعلقات سے آل سعود اور دوسری خلیجی حکمران خاندانوں کی تشویش اور خوفزدگی کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل اسلام کے دوست بن گئے ہیں کہ ان کی تشویش اور خلیجی حکمرانوں خاندانوں کی تشویش ایک جیسی ہے؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔
/110